لونڈی غلام اور کنیز

سلام فواد بھائی

امید ہے کہ آپ خیریت سے ہوں گے ۔ آپ نے لونڈی، غلام اور کنیز   کی حقیقت پر سوال کیا ہے  جو اس مختصر مضمون کو لکھنے کی وجہ بنی۔

دراصل لونڈی، غلام اور کنیز  پر قرآن کی روشنی  میں  ایک سیر حاصل مضمون لکھنے کی ضرورت ہے  تاکہ   وہ حقائق   منظر عام پر لائے جائیں      جو قرآن کے اپنے الفاظ میں  قرآن  کے عربی  متن  میں  تو موجود    ہیں مگر  انہیں مقصد ِ خاص کے تحت منظر عام پر آنے سے روک دیا گیا    اورہمیں  قرآن کے نام پر صرف وہی  کچھ بتایا گیا  جو      مشرکین کے آبآواجداد کے  دین  کا حصہ  اور خلفائے راشدین  کے بعد  آنے والی   اسلامی سلطنت کے حکمرانوں کی عیش و عشرت کا سامان تھا۔

جو مضامین  ابھی زیر تحریر ہیں   ان کو مکمل کرنے کے بعد  اس موضوع پر   میں   ایک ایسا  جامع مضمون   لکھنا چاہ رہاتھا    جس  کا مقصود    قرآنی لفظ “نکاح” کی حقیقت سے  پردہ اْٹھا  نا تھا  جو موجودہ اسلام میں  مشرکین عرب کی روایات کے عین مطابق داخل کرکے ہم تک بعینہٖ پہنچا دیا گیا  اور جس پر بشمول میرے پوری امت مسلمہ عمل پیرا ہے ۔درحقیقت ہمارے تمام مکاتب ِ فکر  “نکاح”  کو شادی قرار دے کر  قرآن کے لفظ “نکح” اور اس کے ماخوذات کے غلط تراجم کرتے ہیں    جبکہ قرآنی الفاظ “مَلَكَتْ أَيْمَانُكُم ”  شادی جیسے پختہ بندھن میں بندھنے والے لوگوں کی بات کرتے ہیں  جسے بے ایمان   نالائقوں کے ٹولے نے غلاموں ، لونڈیوں اور کنیزوں سے تعبیر کررکھا ہے ۔

أَيْمَانُكُم ”  تمہارے حلف  (your oath) کے معانی میں ہے لہٰذا  “مَلَكَتْ أَيْمَانُكُم ”  میں   آپ  کی زندگی  میں شامل ہونے والے وہ تمام  مستقل رشتے آتے  ہیں جن کے  قانونی طور پر آپ مالک ہیں اور اسی طرح اْسی حلفیہ اقرار کی وجہ سے  آپ کی زندگی میں آنے والے  لوگ بھی  آپ کے قانونی مالک ہیں ۔”مَلَكَتْ” کے آخر میں لگا ہوا “تْ”  دونوں جانب ملکیت اور ایک دوسرے کا وارث ہونے پر دلیل ہے۔جبکہ لونڈی ، کنیز اور  غلام    تو صرف اپنے مالک کی یکطرفہ ملکیت میں  ہوتے ہیں  اور وہ اپنے مالک کے مالک نہیں ہوسکتے ۔ اس لئے “مَلَكَتْ أَيْمَانُكُم ”    کے الفاظ دونوں اطراف میں برابری کی ملکیت  اور  حلفاً  تا حیات ایک دوسرے کی  ذمہ داری نبھانے کی بات کرتے ہیں ۔وہ ایک دوسرے کے ساتھ جینے مرنے کا حلف اٹھا تے ہیں ۔ایک دوسرے کے دکھ سکھ کے ساتھی ہونے کی پکی  قسم کھاتے ہیں  اور  ایمان کی رو سے اپنے سر لی ہوئی اس ذمہ داری  کو قبول کرتے ہیں ۔  لہٰذا قرآن کی رو سے حقیقی میاں بیوی  “مَلَكَتْ أَيْمَانُكُم ”   کا حلف اٹھا کے ایک دوسرے کو  تہہ دل سے قبول کرنے  والوں کی فہرست میں آتے ہیں ۔  جس میں  نہ تو کوئی  کسی کا آقا ء   ہوتا ہے اور ناہی غلام  بلکہ   وہ ایک دوسرے کے شریک حیات اور  زندگی کے  پکے ساتھی ہوتے ہیں۔

نکح  کے بنیادی  لفظ سے ماخوذ اسم لازم (intransitive derivative)  نکاح  ممکنہ جنسی تعلقات کی استواری  ، اس کے ذرائع   اور ممکنہ  دخول کی بات کرتا ہے   کہ کن لوگوں سے  یہ تعلقات استوار ہو سکتے ہیں اور کن سے نہیں    ۔

قرآن کا اصل مفہوم بگاڑنے کے لئے    “نکاح” یعنی جنسی تعلق  یا دخول ، “محصنات”  یعنی    وہ  عورتیں جو   کسی کے ساتھ   منسلک (engaged)   ہوں ،کسی کے ساتھ شامل(involved) ہوں   یا کسی کے ساتھ تعلقات (relationship)استوار کئے ہوئے ہوں   اور  “مَلَكَتْ أَيْمَانُكُم ”    یعنی  جو   حلفاً کسی کی زندگی میں شامل ہوں،کے  معانی عملاً  بدل دئیے گئے ۔

انسانی تجارت اور غلامی  قرآن کی روسے قطعی  حرام ہے  اور  زبردستی یا کسی کی مرضی کے بغیر  “نکاح” کو قرآن” زنا ”   یعنی تجاوز  اور عصمت دری  قرار دیتا ہے  جو قابل ِ تعزیر جرم ہے  ۔

امید ہے کہ اس  مختصر تشریح  سے آپ کو آپ کے سوال کا جواب مل گیا ہوگا ۔مزید تفصیل کے لئے “مَلَكَتْ أَيْمَانُكُم ”     والی   تمام قرآنی آیات کا  بغور مطالعہ کیجئے   جو تعداد کے لحاظ سے  پورے قرآن میں تقریباً 15  ہیں جن میں سے   بہت سی  آیات مثلاً    سورۃ النسآء کی آیات  4:3  اور 4:25  وغیرہ  میں “ینکح” اور  المحصنات” کے الفاظ بھی “مَلَكَتْ أَيْمَانُكُم ”     کے ساتھ ہی آئے ہیں  جن کے عربی متن کا لفظ بلفظ  بغور مطالعہ نسِ مضمون کو سمجھنے کے لئے  خاصہ فائدہ مند ہوگا۔ وقت کی کمی کے باعث صرف ایک ہی آیت کے مندرجہ ذیل الفاظ کا  تجزیہ آپ کی خدمت میں پیش کیا جاسکتا ہے   جس کو سمجھ کر  لونڈیوں ، غلاموں اور کنیزوں والی بقیہ 14 آیات کا صحیح ترجمہ آپ خود کرسکتے ہیں ۔اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ ناتو میں خود شخصیت پرست ہوں اور ناہی اپنے قارئینِ کرام  سے چاہتا ہوں کہ وہ قرآن فہمی میں مجھ پر تکیہ  کریں  یا  میری انگلی پکڑ کرچلیں ۔ میں تو صرف  ایک حد تک آپ کی رہنمائی کرسکتا ہوں   لیکن آگے کا راستہ آپ کو خود طے کرنا ہے ۔جہاں گڑبڑا ئیں وہاں دوبارہ رہنمائی طلب فرمالیں لیکن    قرآن کو سمجھنے کی سو فیصد ذمہ داری میرے کاندھوں پر نہ ڈالیں  اور نا ہی میرے الفاظ کو حرف ِ آخر لیں ۔ میں بھی آپ ہی کی طرح کا ایک عام شخص ہوں  ۔جو کچھ قرآن کے الفاظ میں مجھے دکھائی دیتا ہے وہ میں  بغیر کسی ملاوٹ کے آپ لوگوں تک  صاف صاف پہنچا دیتا ہوں ۔قرآن کا سیدھا سادہ مفہوم بگاڑنے والوں پر تنقید بھی کرتا ہوں   جو ان سے کسی ذاتی عناد  کی خاطر نہیں ہوتی  بلکہ صرف اس لیے ہوتی ہے کہ آپ  ان کے دئیے ہوئے غلط مفہوم کا موازنہ قرآن کے اپنے الفاظ کے مطابق  نکالے  ہوئے صحیح مفہوم سے کرکے  اللہ کا اصل پیغام سمجھنے کے قابل ہوسکیں  جو بڑی  ہوشیاری سے چھپا  یا گیا ہے تاکہ  قرآن کا حقیقی پیغام منظر عام پر نہ آسکے۔

وَمَن لَّمْ يَسْتَطِعْ مِنكُمْ طَوْلاً أَن يَنكِحَ الْمُحْصَنَاتِ لْمُؤْمِنَاتِ فَمِن مِّا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُم مِّن فَتَيَاتِكُمُ الْمُؤْمِنَاتِ“(4:25)

جینیاتی  جذر  (proto root)  ط ع     سے ماخوذ  بنیادی  لفظ “طوع”  سے  درآمد ہونے والے فعل “يَسْتَطِعْ”  کے معانی   فارسی  “استطا عت “، ہمت، قوت اور طاقت   نہیں  جس  سے   قرآن مجید کے گمراہ کن  تراجم میں حج ، عمرہ اور  لونڈی  بازی  جیسی حرام کاریوں  کو    توفیق  ہونے پر  حلال اور جائز قرار  دیا گیا ہے   بلکہ عربی زبان کے لفظ   “يَسْتَطِعْ”   کے صحیح  معانی     ہیں : جھکانا  ، فرماں برداری  میں لانا  ،بندی بنانا،   حقارت، ذلت و رسوائی ،   نیچا  کرنا ،   قابو     کرنا ، شرم سار ی کرنا   ، شرمندہ کرنا ، کمتر دکھانا، کسی کے اوپر چڑھائی کرنا، تعقب  کرنا ، پیچھا کرنااور کسی کے پیچھے ہولینا۔

طَوْلاً”  کے معانی  ہیں “لمبا ڈالنا،لمبا  کھینچنا ،  کسی کے پیچھے دور تک جانا اور کسی کے پیچھے ہاتھ دھو کے پڑجانا ۔ “أَيْمَانُكُم ”  کا  “أَيْمَانُ”  حلف، پکی قسم  اور پختہ عہد  کے معانی میں ہے  جو عربی زبان میں  “أَيْمَانُ”   کا صحیح  استعمال اور اس کا صحیح مطلب ہے ۔قرآن کے تراجم میں  “أَيْمَانُ”   کا مطلب  اصطلاحاً  اللہ پر ایمان لانا لیا جاتا ہے جو صرف  قرآن کے تراجم اور مسلمانوں  کے یہاں رائج ہے  جبکہ  دیگر عرب دنیا اور اس کے زمانہ قدیم سے چلے آنے والے  معاشرے  اور  عدالتی نظام میں “أَيْمَانُ”    کو حلف (oath) ، پختہ عہد اور قانونی قسم کہا جاتا ہے جو  “أَيْمَانُ”     کا صحیح مطلب ہے ۔ اس لحاظ سے   اس آیت میں “الْمُؤْمِنَاتِ ”    کا لفظ   “أَيْمَانُكُم ”   کے تناظر میں ہی دیکھا جائے گا   جس کے حقیقی معانی وہ عورتیں ہیں جنہوں نے کسی کے ساتھ پختہ  عہد کا حلف (oath)اٹھا رکھا ہے  اور اس حلف کی رو سے  وہ کسی کی ہوچکی ہیں ۔ قرآن کی زبان میں صرف انہیں عورتوں  کو شادی شدہ کہا جاسکتا ہے جو  پکا حلف اٹھا کر کسی کی ہوگئی ہوں ۔ “الْمُحْصَنَاتِ”   حلفیہ عہد والی شادی شدہ  عورتیں نہیں بلکہ وہ  عورتیں ہیں جن کے نام کے ساتھ کسی کا نام جڑا ہوا ہو ، جو کسی کے ا نتظار میں بیٹھی ہوں، جو کسی کے ساتھ رشتے (relationship) میں منسلک  ہوں، جو کسی کے ساتھ منسوب ہوں ، جن کی بات کہیں پکی  ہوچکی ہو  یا جو کسی  چاہت میں مبتلا  ہوں ۔ “فَتَيَاتِكُمُ”  کے معانی ہیں تمہارا   “روٹی شوربہ ”  تمہارا   مال پانی ، تمہارا  پیٹ بھرنا (filling) ، تمہارا چورہ (crumb) ،  تمہارا پھل ، تمہارا حصہ  انہیں لڑکیوں میں ہے  جو   تمہارے لئے  پکا حلف اٹھا کر تمہاری ہوجائیں  “الْمُؤْمِنَاتِ “۔

فتات “(crumb, bit, segment, fraction, girl/lad)”فَتِيتَة “(bread soup) ، ” فَتِيق “(riped/torn)

گویا  “وَمَن لَّمْ يَسْتَطِعْ مِنكُمْ طَوْلاً أَن يَنكِحَ الْمُحْصَنَاتِ لْمُؤْمِنَاتِ فَمِن مِّا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُم مِّن فَتَيَاتِكُمُ الْمُؤْمِنَاتِ“(4:25) کا درست مفہوم یہ ہے کہ  “اور جو تم میں سے    نہیں پیچھا کرتے  لمبا ڈال کر   دخول کرنے کے لئے       حلف والی منسوب عورتوں کا  جو تمہارے حلف کی روسے تمہاری وہ   ملکیت نہیں  جو حلف اٹھا کر تمہارے حصے میں آ چکی ہوں “۔

 

اسی طریقے سے آپ  قرآن کی ان  دیگر آیات کے بھی درست تراجم کرسکتے ہیں  جن میں  مشرکین کے چیلوں نے  لونڈیوں ، غلاموں اور کنیزوں  کو  رکھنے کے جھوٹے  جواز  گھڑ رکھے ہیں ۔

میں اس سے پہلے بھی عرض کرچکا ہوں کہ قرآن مجید کو اس کے اپنے الفاظ سے سمجھنا  بہت آسان ہے کیونکہ اللہ تبارک تعالیٰ نے بہت سیدھے اور صاف الفاظ میں کھری کھری  بات کی ہے ۔ مگر ان صاحب علم حضرات کا کیا کیجئیے جو اس بات پر  زور دیتے ہیں کہ  قرآن کے اپنے الفاظ ہی سب کچھ نہیں بلکہ ان کے پس ِ پردہ اور بھی بہت کچھ بتایا جارہا ہے۔ قرآن کے الفاظ کے پس ِ پردہ معانی کا استخراج تو غالباً وحی کے ذریعے ہی ممکن ہوسکتا ہے  کسی کی ذاتی سوچ ، کسی کے ذاتی تجربے اور کسی کے  ذاتی علم کی بدولت   ایسا ممکن نہیں کہ اللہ کے الفاظ کچھ کہہ رہے ہوں اور ہم انہیں کسی اور  معانی میں لیں ۔ حقیقت  تو یہی ہے کہ جو کچھ قرآن کے صاف شفاف اور سیدھے سیدھے الفاظ میں دکھائی دے رہا ہے  وہی اللہ کا  اصل پیغام ہے باقی سب کچھ من گھڑت   جھوٹ  کا پلندہ ہے  جو ہمارے علمائے کرام اور ان کے پیروکاروں نے  گھڑ رکھا ہے۔جیسا کہ  ہمارے زیر مطالعہ  سورۃ النسآء کی آیت  4:25  اور انہیں الفاظ پر مشتمل   قرآن  کی دیگر آیات کے مندرجہ ذیل  جھوٹے اور گمراہ کن   تراجم میں دیکھا جاسکتا ہے ۔

” اور تم میں سے جو کوئی (اتنی) استطاعت نہ رکھتا ہو کہ آزاد مسلمان عورتوں سے نکاح کر سکے تو ان مسلمان کنیزوں سے نکاح کرلے جو (شرعاً) تمہاری ملکیت میں ہیں “(طاہر القادری4:25)

” اور جو کوئی تم میں سے اس بات کی طاقت نہ رکھے کہ خاندانی مسلمان عورتیں نکاح میں لائے تو تمہاری ان لونڈیو ں میں سے کسی سے نکاح کر لے جو تمہارے قبضے میں ہوں اور ایماندار بھی ہوں ” (احمد علی4:25)

” اور تم میں بے مقدوری کے باعث جن کے نکاح میں آزاد عورتیں ایمان والیاں نہ ہوں تو ان سے نکاح کرے جو تمہارے ہاتھ کی مِلک ہیں ایمان والی کنیزیں ” (احمد رضا خاں4:25)

” اور جو نہ رکھتا ہو تم میں سے قدرت اس بات کی کہ نکاح کرسکے آزاد مومن عورتوں سے تو (وہ نکاح کرے) ان سے جو تمہاری مِلک میں ہوں، کنیزیں ایمان والی ” (شبیر احمد4:25)

” اور جو شخص تم میں سے مومن آزاد عورتوں (یعنی بیبیوں) سے نکاح کرنے کا مقدور نہ رکھے تو مومن لونڈیوں میں ہی جو تمہارے قبضے میں آگئی ہوں (نکاح کرلے) ” (فتح محمد جالندھری4:25)

” اور جو شخص تم میں سے اتنی مقدرت نہ رکھتا ہو کہ خاندانی مسلمان عورتوں (محصنات) سے نکاح کر سکے اسے چاہیے کہ تمہاری اُن لونڈیوں میں سے کسی کے ساتھ نکاح کر لے جو تمہارے قبضہ میں ہوں اور مومنہ ہوں ” (ابوالاعلیٰ مودودی4:25)

“اگر تم میں سے کسی میں  اس کی استطاعت  نہ ہو کہ وہ آذاد مومن عورت سے شادی کرے  تو وہ کسی ایسی عورت سے شادی کرلے  جو کسی کی لونڈی ہو (تاکہ وہ لونڈیاں جو اس وقت تمہارے معاشرے میں موجود ہیں  رفتہ رفتہ معاشرے کا جزو بنتی جائیں  اور اس طرح غلامی کا خاتمہ ہو جائے)” یہ خیال نہیں کرنا  چاہئیے کہ لونڈی سے شادی کرنا  باعث ِ ذلت ہے ۔جب وہ ایمان لے آئی اور تمہارے نکاح میں آگئی  تو مرتبہ میں برابر ہوگئی(غلام احمد پرویز )

وَمَن لَّمْ يَسْتَطِعْ مِنكُمْ طَوْلاً أَن يَنكِحَ الْمُحْصَنَاتِ لْمُؤْمِنَاتِ فَمِن مِّا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُم مِّن فَتَيَاتِكُمُ الْمُؤْمِنَاتِ“(4:25)

اور جو تم میں سے    نہیں پیچھا کرتے  لمبا ڈال کر   دخول کرنے کے لئے       حلف والی منسوب عورتوں کا  جو تمہارے حلف کی روسے تمہاری وہ   ملکیت نہیں  جو حلف اٹھا کر تمہارے حصے میں آ چکی ہوں ” (قرآن کے الفاظ کی رو سے لفظ بلفظ  بالکل صحیح ترجمہ)

قرآن کے الفاظ بھی آپ کے سامنے ہیں اور   اہلِ قرآن اور روایتی علمائے کرام کے من گھڑت  تراجم بھی آپ کے سامنے ہیں ۔  اس آیت کے عربی متن میں ناتو کہیں “آذاد” کا  لفظ ہے اور ناہی “خاندانی” کا  ۔کہیں “لونڈی” یا “کنیز”  کا لفظ  بھی اللہ نے استعمال نہیں  کیا    اور ناہی  وہ الفاظ  اس آیت کے عربی  متن  کا حصہ ہیں  جو روایتی اور قرآنی علماء نے  اپنے بے ربط اور غیر منطقی  جھوٹ کو سچ اور عین منطقی بنانے کے لئے بریکٹ میں لکھے ہیں ۔کیا اللہ کے پاس  الفاظ کی کمی تھی یا اللہ کو وہ کچھ کہنا نہیں آتا تھا جو ہمارے معزز علمائے کرام نے  اپنے من گھڑت الفاظ میں اللہ کے سر تھونپ  رکھا ہے؟

جبکہ “وَمَن لَّمْ يَسْتَطِعْ مِنكُمْ طَوْلاً أَن يَنكِحَ الْمُحْصَنَاتِ لْمُؤْمِنَاتِ فَمِن مِّا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُم مِّن فَتَيَاتِكُمُ الْمُؤْمِنَاتِ“(4:25) کے   الفاظ   بے راہ  روی   کا خاتمہ کرکے محفوظ معاشرے کے قیام ،   ایک دوسرے کی عزت و عصمت کی  حفاظت  اور  چادر اور چار دیواری کے تحفظ کے لئے    اللہ کے  باقاعدہ  منشور کی ایک قانونی  شق   اور اللہ کا  انتظامی  حکم  ہیں کہ      کسی  سے منسوب  اور کسی کی شریک حیات    سے جنسی تعلقات استوار کرنے کے لئے    اسے دبوچہ نہ جائے ۔ کسی کی عورت     کے ساتھ جنسی تعلقات قائم کرنے کے لئے اس پر میلی  نظر نہ ڈالی جائے ۔کسی کی عورت  کے ساتھ جنسی تعلقات  قائم کرکے اسے   رسواء نہ کیا جا ئے ۔کسی کی عورت کی عصمت    پامال نہ کی جائے   کیونکہ  ان عورتوں  پر  تمہارا ایسا کوئی حق نہیں   جیسا کہ  تمہارے حق ِ زوجیت میں آنے والی  عورتوں  پر  ہوتا ہے ۔

مگر ہماری تو نظر ہی دوسروں کی عورتوں پر رہتی ہے ۔ہماری دلچسپی اپنی بیوی سے زیادہ دوسروں کی بیویوں میں ہوتی ہے ۔ ہم تو  اس گھڑی کا  شدت سے انتظار کرتے ہوئے کہ کب کسی کی بیوی سے ہمارے تعلقات استوار ہوں  آنکھوں سے ہی کام کرجاتے ہیں  ۔ کیونکہ  ہم  تک اللہ کا یہ حکم  پہنچنے نہیں دیا گیا    جس میں اپنی بیوی کے علاوہ دوسروں کی بیویوں   اور دوسروں کی منگیتروں       کے ساتھ  جنسی تعلقات   استوار کرنے کی ممانعت کی گئی ہے۔کچھ لوگ   یقیناً یہ دلیل بھی دیں گے کہ جب قرآن میں یہ کھلے  الفاظ میں  موجود ہے کہ کسی کی طرف بری نیت سے نہ دیکھو ، اپنی نگاہیں نیچی رکھو  ، بے حیائی نہ کرو   اور  کسی سے ناجائز  جنسی تعقات استوار نہ کرو  تو بس اللہ کا یہی حکم دوسروں کی بیویوں کے  زمرے میں بھی کافی ہے !

مگر نہیں ۔یہ بات ہر گز درست نہیں کیونکہ قانون کی تمام شقوں کا اطلاق فرداً فرداً ہوتا ہے اور جب قانون بنایا جاتا ہے تو اس کی تمام اطلاقی شقوں کو  ا لگ الگ بتایا جاتا ہے تاکہ   کسی سے بھول چوک میں  یا قانون   کے تمام پہلوں سے ناواقفیت ہونے کی وجہ سے کوئی غلطی سرزد نہ ہوجائے  اور غلطی کے مرتکب مجرمان  اس بات کا سہارا لے کر  کہیں  بچ نہ جائیں کہ  قانون میں وہ شق تو موجود ہی نہیں  جس کا اطلاق ان پر کیا جارہا ہے ۔

لہٰذا نظریہ ضرورت کے تحت    کئے ہوئے قرآنی قوانین کے  گمراہ کن  تراجم  پر ایمان لانے کی بجائے  قرآن کے اپنے الفاظ  میں جو کچھ بیان کیا جارہا اس  کو سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کی ضرورت ہے  ورنہ جو ذلت اور رسوائی ہمارا مقدر بن چکی ہے ہم اس سے کبھی باہر  نہیں نکل سکیں گے۔۔۔اور یہی عذاب ِ الٰہی ہے جس نے  امت مسلمہ کو چاروں اطراف سے گھیر رکھا ہے۔

امید ہے  کہ آپ  قرآن کا اصل مفہوم سمجھ کر  قرآن کو کسی کے  عطا کردہ الفاظ سے پڑھنے کی بجائے  قرآن کو قرآن کے اپنے  الفاظ سے ہی پڑھیں گے۔

آپکا خیر اندیش

quran guide

Advertisements