چاند خدا  کا مہینہ اور چاند خدا کے روزوں پر زیر نظر مضمون  قرآنی فکر کے ان  احباب کے اصرار پر گزشتہ رمضان میں  تحریر کیا گیا تھا   جنہوں نے    لنکڈان پر شائع ہونے والے   میرے  مندرجہ ذیل  انگریزی  مضامین  پڑھ کر انہیں اردو میں لکھنے پر زور دیا تھا ۔انگریزی جاننے والے قارئین مندرجہ ذیل مضامین انگریزی میں بھی  پڑھ سکتے  ہیں جو ان کی سہولت کے لئے  لنکڈان پر موجود ہیں  ۔

” FASTING IN RAMADAN IN THE LIGHT OF QURAN”

“QURANIC SAWM IS NOT THE HUNGERFAST OF POLYTHEISTS”

“THOSE WHO KEEP TRADITIONAL HUNGERFASTING ARE OUT OF ISLAM –A CLAUSE OF THE VERSE 2:185 OF THE QURAN”

“CORRECT UNDERSTANDING QURANIC SAWOM WITH REFERENCE TO THE VERSES 2:185 AND 2:187 OF THE QURAN”

سورۃ البقرہ کی  آیت 183 میں “صوم”  کی جمع ” الصِّيَامُ ”  کا لفظ   قرآن میں آیا ہے جسے سالانہ  پارسی     جشن ِ  نوروز  منانے والے قدیم   علمائے کرام نے  فارسی زبان کے لفظ “روزہ” سے بدل دیا  جس کا مطلب  چاند کو خدا ماننے والے مشرکین ِعرب اور  فارس کے ستارا  پرست زرتشی   مذہب  کی وہ عبادت تھی جو وہ  اپنے دیوتاؤں  کے لئے سال میں ایک  مہینہ  بھوکے پیاسے رہ کر کرتے تھے ۔ہندوؤں کی   قدیم اشوکہ تہذیب کی جڑیں ہندوستان سے نکل کر مشرق ِ وسطیٰ تک پھیلی ہوئی تھیں  جس میں  سال بھر دیوی دیو تاؤں کی پوجا پات کر نے کے ساتھ ساتھ سال میں ایک ایسا مہینہ  ایسا بھی تھاجسے “رام دان ” کے نام سے یاد کیا جاتا تھا۔ہندوؤں کے یہاں رام کا تصور ایسا ہی ہے جیسے عربوں کے یہاں اللہ کا تصور تھا  یعنی چھوٹے چھوٹے خداؤں کے اوپر سب سے بڑا خدا  جس کے لئے عرب “اللہْ اکبر” کے نعرے لگاتے تھے۔طبری اپنی تاریخ میں لکھتے ہیں کہ جب حضور ؐ کے دادا عبدالمطلب صفا اور مروا کے بتوں اصاف اور نائیلہ کو زمین میں  گاڑنے کے لئے کعبہ کے پہلو میں گڑھا کھود رہے تھے تو وہاں سے پانی نکل آیا  جسے “زم زم ” کہہ کر انھوں نے روکا اور “اللہ اکبر” کا زور دار نعرہ لگایا۔حضور ؐ کے والد محترم کا نام ِ گرامی بھی “عبداللہ” تھا  ۔گویا  اسلام سے پہلے بھی عرب کے لوگ اللہ کو مانتے اور جانتے   تھے مگر اس کے باوجود وہ  ہندوؤں کی طرح  اللہ کے کاموں میں     بتوں اور اجرام ِ سماوی کو بھی شریک کرتے تھے۔ہندو   بنیے  سال بھر لوگوں کا خون چوس کر اپنی تجوریاں بھرتے اور سال میں ایک    مہینہ  “رام دان” اور “رام دھیان”  کے نام پر مختصر سا  دان دیتے  اور دن رات   زور شور سے پوجاپاٹ کرنے  کے ساتھ ساتھ   بھوک پیاس کے روزے  بھی رکھتے تھے جنہیں آج بھی  ہندو مذہب میں “اْپاس”  اور “برتھ”کہا جاتا ہے ۔ہندوؤں کی پوجا پاٹ عربوں تک پہنچی تو اس کے ساتھ ساتھ رام دان  اور رام دھیان کا فلسفہ بھی   خطہ عرب میں آیا    جسے عربی میں “رم ضان” کہا گیا ۔علماء کچھ بھی کہتے رہیں کہ “رمضان” عربی کے لفظ “رمض” سے نکلا ہے  جس کا  مطلب گرمی ہے  مگر رمضان کی   تاریخی حقیقت یہی      ہے جو آپ کے گوش گزار کی جارہی ہے  کیونکہ رمضان صرف گرمی  میں ہی نہیں  بلکہ سردی اور   ہر موسم میں آتا ہے  جو علماء کے تراشے ہوئے معانی کو جھوٹا ثابت کرتا ہے۔ رمضان  عرب میں آیا تو اس کی بنیاد تو وہی “رام دان ”  اور “رام دھیان رہی” مگر عرب تہذیب کے حوالے سے اس میں یہ تبدیلی آئی کہ  عرب چونکہ چاند کو خدا کہتے تھے اس لئے وہ سال میں ایک مہینہ  اپنے چاند خدا کو رام کرنے کے لئے  اس وقت تک بھوکے پیاسے رہتے تھے  جب  تک مطلع پر چاند دکھائی نہیں دیتا تھا   یعنی صبح صادق  میں جب چاند آسمان سے غائب ہوجاتا تھا تو وہ  اس مہینے میں کھانا پینا  اور عورتوں سے صحبت کرنا بند کردیتے تھے   اور دن چْھپے جب چاند آسمان پر واپس نمودار ہوتا تو کھانا پینا اور صحبت دوبارہ شروع ہوجاتی تھی   جس کا سلسلہ  اس وقت تک چلتا تھا جب تک اگلی صبح صادق میں  چاند دوبارہ  آسمان سے غائب نہیں ہوجاتا تھا۔  عرب بھی  ہندوؤں کی طرح سال میں ایک بار خیرات دینے لگے  اور    رمضان میں    “رام دھیان ”   سے ماخوذ “چاند خدا کا دھیان” بھی     زور شور سے ہونے لگا۔دھیان کا مطلب لولگانا اور عبادت کرنا ہے۔عرب چونکہ چاند خدا کی عبادت کرتے تھے  اس لئے  وہ  بھی رمضان میں بھوکے پیاسے رہ کر چاند خدا کی عبادت میں ڈٹے رہتے تھے  جسے عربی میں “صوم” کہا جاتا  ہے ۔گویا عربی لغت کے مطابق  کسی  کے لئے ڈٹ جانے۔کسی کے لئے کھڑے ہونے  اور گونگے بہروں کی طرح کسی  کی سنے بغیر  کسی بات پر اڑ جانے    یا کسی کے سامنے سیسہ پلائی ہوئی دیوار کی طرح جم جانے کو  “صوم”  کہا  جاتا ہے۔    عرب مشرکین  جس چاند  خدا کی عبادت کرتے تھے قرآن میں  اس کی تعریف   “الشھر”   کے نام سے کی گئی  اور “شھر الحرام” کے جملوں سے اللہ نے مشرکین کے گھڑے   ہوئے    اس چاند خدا کو حرام اور قطعی  ممنوع قرار  دیا ۔  نبی کریمؐ  اور آپؐ کے جانثار ساتھیوں  کے اس دنیا سے رخصت ہوجانے کے بعد   وہی مشرکین عرب      فارسی ستارا پرستوں کے  گٹھ جوڑ سے  اسلامی ریاست پر قابض  ہوگئے  اور  جس اسلام  کو  نبی کریمؐ قرآن کے ذریعے  لائے تھے اسے مٹاکر انھوں    نے اپنی پرانی شرک و بت پرستی کو اسلام  کا نام دے دیا  اور اس پر چلنے والوں کو مسلمان کہنا شروع کردیا کیونکہ  بنی کریم ؐ  اور خلفائے راشدین کی چھوڑی ہوئی اسلامی ریاست پر قابض رہنے کے لئے اور   اپنے آباؤ اجداد سے چلی آنے والی شرک و بت پرستی  کو دوام دینے  اور اصل اسلام کا راستہ روکنے کے لئے یہ گھناؤنا سیاسی اقدام ضروری تھا۔ یہی وہ دور تھا جب کعبہ کے مرکزی بت واپس رکھ کر اس منہدم کعبہ کو دوبارہ   تعمیر  کیا گیا جسے نبی کریمؐ نے    630 ؁ میں گرا کر مسجد الحرام سے مکمل طور پر بتوں کا صفایہ کردیا تھا۔ اس طرح اسلام میں عرب مشرکین کی تمام    مشرکانہ رسومات    کے ساتھ ساتھ   پارسی نماز،  چاند خدا کا   روزہ   اور بتوں پر چڑھائی جانے والی جانوروں کی قربانی  بھی  شامل ہو گئی   اور ان تمام غیر اسلامی مشرکانہ رسومات  کو اسلام کے ستون قرار دیا گیا۔

الصِّيَامُ ” دراصل “صوم” کی جمع  ہے  جو قرآن مجید  میں سورۃ البقرہ کی  آیت 183 میں   “الصِّيَامُ ” کو انہیں معانی میں لیتی ہے جو عربی لغت  کے حوالے سے آپ کی خد مت میں پیش کئے گئے ہیں یعنی     ڈٹ جا نا ۔کسی کے لئے کھڑے ہونا   اور گونگے بہروں کی طرح کسی  کی سنے بغیر  کسی بات پر اڑ جانا      یا کسی کے سامنے سیسہ پلائی ہوئی دیوار کی طرح  جم  کر کھڑے ہوجا نا ۔

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُواْ كُتِبَ عَلَيْكُمُ الصِّيَامُ كَمَا كُتِبَ عَلَى الَّذِينَ مِن قَبْلِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ (2:183)

اس آیت میں ان لوگوں کو مخاطب کرکے کہا گیا ہے جو ایمان لے آئے ہیں یعنی جو لوگ اللہ کی وحی کو قبول کرکے اس پر عمل پیرا ہیں  اللہ تبارک تعالیٰ ان سے مخاطب ہوکر فرمارہے ہیں کہ  تمہارے لئے بھی کسی کی سنے بغیر حق پر   ڈٹ جانے کا حکم اسی طرح لکھ کر بھیجا  گیا ہے جیسے تم سے پہلے لوگوں پر بھیجا گیا تھا  تاکہ تم محتا ط   رہو۔

كُتِبَ” اللہ کا لکھا ہوا حکم ہے ، “ الصِّيَامُ”  چونکہ “ال” کے ساتھ  معروف ہے اس لئے  اس کے  مخصوص معانی “اللہ کے حکم کے پر ڈٹ جانا” اللہ کے حکم پر کسی کی سنے بغیر سختی سے کاربند ہونا  اور حق کے لئے کھڑے ہونا لئے جائیں گے۔” تَتَّقُونَ”  کے معانی ہوشیار (alert) اور محتا ط (Cautious)  ہونے کے ہیں ۔

اس آیت میں   “صوم” کی جمع “الصِّيَامُ”  سے بھوکے پیاسے رہنے کی کوئی بات نہیں گئی بلکہ یہ آیت  اس سے پہلی آیت 2:182 کے اسی  بیان کے الحاق  اور تسلسل میں آئی ہے  جس میں یہ کہا گیا ہے کہ  اگر کی گئی      وصیت  میں کسی کے ساتھ ذیادتی  ہورہی ہو  تو ان کے درمیان تصفیہ کروادو اور سے پہلی آیت 2:181 میں بتایا جارہا ہے کہ جو  لوگ کسی کی وصیت سننے کے بعد بدل دیں گے تو اس کا گناہ  اسے بدلنے والوں  پر ہوگا ۔ اس سے  پہلی آیت 2:180 میں اللہ تعالیٰ یہ حکم      فرمارہے ہیں   کہ یہ لازم ہے کہ جب تم میں سے کسی کی موت قریب آپہنچے تو  وہ اپنے پیچھے چھوڑے جانے والے مال کو  اپنے    والدین اور قریبی رشتہ داروں کے حق میں  بہتر طریقے سے وصیت کرے۔

گویا    “الصِّيَامُ” کے سیاق و سباق  میں  بات وصیت اور ترکہ میں چھوڑے ہوئے مال کی ہورہی ہے اور یہ بتایا جاریا ہے کہ مرنے والے کا مال ہڑپ کرنے کے لئے  اکثر لوگ  اس کی وصیت کو  بدل دیتے ہیں جس سے ناانصافی ہوتی ہے اور جب حق داروں کو ان کا حق نہیں ملتا تو جھگڑا ہوتا ۔اگر آپ ایسے موقع یا تقسیم ترکہ کے وقت موجود ہوں یا آپ نے مرنے والے کی وصیت سْن رکھی ہو تو آپ حق داروں کو ان کا حق دلوانے کے لئے کسی کی بات سنے بغیر اور کسی بھی مصلحت کو خاطر میں لائے بغیر اْٹھ کھڑے ہوں  اور حق داران کا حق دلوا کے ان میں صلح صفائی کردادیں ۔ لہٰذا،   صوم کی جمع “ الصِّيَامُ” صبح سے  شام تک    بھوکہ پیاسہ  رہنے کے لئے استعمال نہیں کی گئی بلکہ قرآن “صوم” اور “الصِّيَامُ” کے الفاظ سے  آپ کو انصاف کے تقاضوں کے عین مطابق اپنا کردار ادا کرنے کے لئے کسی کی سْنے بغیر ڈٹ جانے کا حکم  دے رہا ہے بالکل اسی طرح جیسے آپ سے پہلے لوگوں کو یہی حکم دیا گیا تھا۔

مگر افسوس ! کہ   اللہ کے اس حکم کو “يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُواْ كُتِبَ عَلَيْكُمُ الصِّيَامُ كَمَا كُتِبَ  عَلَى الَّذِينَ مِن قَبْلِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ ” (2:183) جو ہم سے پہلے بھی لوگوں پر اسی طرح بھیجاگیا   ہم نے اسے ماہِ صیام بنا کر مشرکانہ روزے سے تعبیر کردیا۔ اللہ کے احکامات کو تبدیل کرنے کی شیطانی ان لوگوں نے کی جنہوں نے  اپنی قنیح حرکتوں پرپردہ ڈالنے کے لئے یہ مشہور کررکھا ہے کہ قرآن بے ربط اور عربی زبان کے قواعد و ضوابط (grammar) کے مطابق نہیں لکھا گیا اس لئے قرآنی آیات کا  مطلب جو جی میں آئے  لے لیا جائے ۔ کیا آپ کے خیال میں ایسا ممکن ہے  کہ حکم اللہ نے لکھ کر  (كُتِبَ) بھیجا  ہو اور  اس میں اللہ نے لکھائی کے قواعد  و ضوابط نظر انداز کردئیے ہوں  تاکہ ہر چور اْچکا اْٹھ کر اللہ کے کلام کا جو مرضی مطلب نکالتا پھرے ۔ ؟  کیا کسی جج کا  لکھا ہوا حکم ، کسی سرکار کا حکم یا کسی اناڑی سے اناڑی لکھاری اور قلم کار کی ایسی  تحریر  آپ نے کبھی  دیکھی ہے جس میں   آسمان کی بات کرتے کرتے ایک دم زمین کی بات کردی جائے  یا ایسے ٹوٹے پھوٹے جملے استعمال کئے جائیں  جن سے پڑھنے والے کو کچھ بھی سمجھ نہ آئے کہ   دراصل کہا کیا جارہا ہے ۔قرآن کے مروجہ  تراجم   ایسے ہی بے ربط اور ٹوٹے پھوٹے جملوں سے بھرے پڑے ہیں ۔ اب ایسی بات بھی نہیں کہ اللہ کے پاس الفاظ کی کوئی کمی ہو یا اللہ جو  لکھنا چاہتا ہو وہ بھول جائے اور ہمارے علماء اپنے  دنیاوی علم و قابلیت سے اپنے اعتقاد کے مطابق  بریکٹ میں اپنے الفاظ ٹھونس کے  اللہ کی تحریر کو مکمل  کریں ۔  صوم اور اس کی جمع “الصِّيَامُ” کے بارے میں جو کچھ ہمارے علماء نے مشہور کررکھا ہے  اگر اللہ کو وہی کہنا منظور ہوتا تو کیا اللہ کو وہی بات صاف صاف الفاظ میں لکھنی نہیں آتی تھی؟

 

قرآنی لفظ “صوم” کو بھوک اور پیاس کے روزوں میں   بدلنے کے لئے جس قرآنی آیت کا مفہوم بگاڑا گیا وہ 2:185 ہے جس کی صحیح  تشریح  نہایت ضروری ہے تاکہ  اللہ کے حکم کو اس کی  اصل روح کے مطابق سمجھا جائے ۔

شَهْرُ رَمَضَانَ الَّذِيْ أُنزِلَ فِيهِ الْقُرْآنُ هُدًى لِّلنَّاسِ  وَبَيِّنَاتٍ مِّنَ الْهُدَى وَالْفُرْقَانِ فَمَن شَهِدَ مِنكُمُ الشَّهْرَ فَلْيَصُمْهُ وَمَن كَانَ مَرِيضًا أَوْ عَلَى سَفَرٍ فَعِدَّةٌ مِّنْ أَيَّامٍ أُخَرَ يُرِيدُ اللّهُ بِكُمُ الْيُسْرَ وَلاَ يُرِيدُ بِكُمُ الْعُسْرَ وَلِتُكْمِلُواْ الْعِدَّةَ وَلِتُكَبِّرُواْ اللّهَ عَلَى مَا هَدَاكُمْ وَلَعَلَّكُمْ تَشْكُرُونَ (2:185)

اس آیت میں دراصل اس مغالطے کو دور کیا جارہا ہے  جس میں لوگ رمضان میں صوم رکھتے ہیں یعنی بنا کسی کی سْنے  ڈٹے رہتے  مگر یہ صوم اللہ کے لئے ڈٹے رہنا نہیں ہے  بلکہ مشرکین کے گھڑے ہوئے معبود چاند کے لئے ڈٹے رہنا ہے ۔

بالائی آیت میں اللہ کا حکم  بالکل اْسی طرح  الگ الگ ضابطوں اور شقوں میں لکھا گیا ہے جیسا آپ کسی قانون ساز ادارے کے احکامات میں ملاحظہ فرماتے ہیں  یعنی پہلے قانون لکھا جاتا ہے پھر اس پر اطلاق ہونے والی      شقوں اور ضابطوں کو نمبر وار لکھا جاتا ہے ۔  وکلاء  حضرات  اس بات کو اچھی طرح سمجھتے ہوں گے ۔جو وکیل نہیں وہ   ریاست کا بنا یا  ہوا کوئی قانون (Statutory Law)  ملاحظہ فرمالیں کہ جب کوئی قانون بنتا ہے تو اسے  قانون کی زبان میں   کس طرح  چھوٹی چھوٹی شقوں اور  اطلاقی ضابطوں کے ساتھ   الگ الگ کرکے لکھا جاتا ہے تاکہ اس قانون پر لاگو ہونے والی ہر ایک شق اور ہر  ضابطہ الگ الگ  صاف الفاظ میں اور واضح طور پر سمجھا جائے ۔ نہ تو ایک ضابطہ دوسرے کسی ضابطے سے گڈ مڈ کیا جاتا ہے اور نہ ہی ایک شق کو کسی دوسری شق سے ملایا جاتا ہے ۔ اس آیت اور قرآن کی دیگر آیات میں بھی اللہ کے حکم کے  ضابطے  حروف ِ ربط کے ساتھ اسی طرح الگ الگ لکھے گئے ہیں  جنہیں نظر انداز کرتے ہوئے    قرآن کے تراجم میں ہمارے علمائے کرام اور مترجمین  حضرات  نے انہیں  اس  لئے ایک دوسرے میں گڈ مڈ کررکھا ہے کہ وہ اپنے اپنے نظریات کے مطابق قرآنی آیات کا مفہوم نکال سکیں ۔ اس آیت2:185  کی لفظ بلظ تشریح ملاحظہ فرمائیے ۔

شَهْرُ  ”   اپنے بنیادی   حروف کے مطابق دراصل ابھرنے والی چمک دار   اور روشن شے کو کہا جاتا ہے ۔ مشرکین چونکہ چمک دار اشیا کو پوجتے تھے   جس میں  رات کے اندھیرے میں  چمکنے والے تمام اجرام ِ فلکی  شامل ہیں ۔سورج بھی چمکتا ہے  مگر اس کو مشرکین  عرب چاند خدا کی بیوی کا درجہ دے کر  ایک طرف رکھتے  تھے  مگر چاند کو مذکر   مان کر اسے خدا کا درجہ دیتے تھے   اور اندھیرے میں چمکنے والے  ستاروں کو  مشرکین ِ عرب   چاند خدا اور اس کی بیوی سورج  سے پیدا ہونے والے  بچے مانتے تھے ۔ لہٰذا  چاند کو ہی اندھیرے میں  چمک اور روشنی کا منبع مان کر  اسی کو “شھر” کہتے تھے ۔ جب چاند سے مہینوں کی گنتی شروع  ہوئی تو مہینے کو بھی  “شھر” کہا جانے لگا ۔ جبکہ عربی میں مہینے کو “شھر تقویم” کہا جاتا ہے ۔ عربی سے انگریزی کی لغت ملاحظہ فرمائیں تو آپ دیکھیں گے کہ  “ہنی مون” کو عربی میں آج بھی  “شھرالعسل”  کہا جاتا ہے۔ انگریزی میں بھی  مہینے کو اسی طرح MONTH  کہا جاتا ہے جیسے عربی میں  مہینے کو مکمل لفظ کے ساتھ  “شھر تقویم” ۔ MONTH  دو الفاظ “MON + NTH”  کا مجموعہ ہے   جس میں(مون)   MOON  کا مخفف    MON   لیا  جاتا ہے اور ریاضی کی اصطلاح   nth term   یعنی تقویم  کا  مخفف NTH لے کر قاعدے کے مطابق  دونوں کے درمیانی  N کو مشترک  مان کر    MONTH  بنایا  گیا ہے ۔  تحریری قواعد کے مطابق   اگر کسی تحریر میں  کسی مہینے کا نام استعمال ہو تو اس کے ساتھ مہینہ نہیں لکھا جاتا  اور جو ایسا لکھتا ہے اسے علم و ادب سے ناواقف سمجھ کر اس کی تحریر کو غلط مانا جاتا ہے ۔ مثلاً انگریزی  زبان کے قاعدے کے مطابق ایسا جملہ    In the month of January    یعنی “جنوری کے مہینے میں” لکھا جانا  زبان کے قواعد کے مطابق غلط تصور ہوتا ہے  بلکہ صحیح جملہ ہوگا  In January  یا اگر کوئی مخصوص جنوری یا جس جنوری میں کوئی خاص بات ہوئی ہو تو اس میں صرف  the  کا اضافہ ہوگا مگر  کسی مہینے کے نام کے ساتھ month  نہیں لکھا جاتا  کیونکہ  ایسا لکھنا تحریری  غلطی تصور ہوتا ہے  اس لئے کہ سب کو پتہ ہے کہ جنوری ، فروری یا  دسمبر تک مہینوں کے نام  بذات ِ خود ایک مہینہ       ہیں ۔ عربی  ادب کا بھی یہی حال ہے بلکہ عربی زبان  تو زبان دانی میں اس قدر  پختہ ہے کہ عربی تحریر میں غلط لکھا ہوا لفظ  ایک ہی نظر میں اْبھر کر سامنے آجاتا ہے  اور عرب قوم بھی ایسی ہی ہے جو زبان دانی میں دوسروں کو گونگا کہتی ہے ۔البتہ فارسی اور اس کی بغل بچہ زبان اردو میں مہینے کو چاند کہیں یا مہینہ  اس سے کوئی فرق نہیں بڑتا ۔ اردو میں  آپ نے عام سنا ہوگا کہ یہ خالی کا چاند ہے یعنی اس  مہینے میں کوئی تہوار یا واقع نہیں ۔  گویا ” خالی کا چاند ”  جیسے جملوں  میں اردو  زبان میں  بھی چاند سے مراد “مہینہ ”    لیا جاتا ہے    جس سے بعض لوگوں  کو  مغالطہ ہوتا ہے کہ   چاند سے مہینے کا کیا تعلق؟۔

لہٰذا،  جس  مضحکہ خیز انداز سے قرآنی آیات کے تراجم کئے گئے ہیں  اللہ کی تحریر ایسی ناقص یا گئی گزری  نہیں جسے دیکھ کر زبان دان حقارت سے یہ پوچھیں کہ (معاذاللہ)  یہ جملہ  کس  بے وقوف نے لکھا ہے   جس میں رمضان کو  رمضان کا مہینہ یا رمضان کا چاند کہ کر مخاطب کیا گیا ہے۔ اس لئے بالائی آیت 2:185 میں  رمضان سے پہلے جو ” شَهْرُ ”  کا لفظ آیا ہے  گرامر کے قواعد کے مطابق اس ” شَهْرُ ” سے مہینہ یا چاند نہیں لیا جاسکتا  بلکہ یہ ” شَهْرُ ” اپنے بنیادی معانی روشنی، چمک اور  تشہیر  کے طور پر استعمال ہوگا   کیونکہ رمضان تو   پہلے ہی یعنی قبل ازاسلام سے ہی  سال کے بارہ مہینوں میں سے ایک مہینے کا نام مخصوص تھا جس میں زور شور سے  پوجا پاٹ   بھی ہوتی تھی  اور  دان  کے لئے خیرات بھی دی جاتی تھی  اور بھوک پیاس کے روزے  بھی رکھے جاتے ہیں ۔ قرآن نے اس مہینے کا وہی نام استعمال کیا جس سے لوگ اسے جانتے تھے تاکہ لوگ اللہ کا پیغام سمجھنے میں کوئی غلطی نہ کریں کہ انہیں رمضان میں کیا کرنے کا حکم دیا جارہا ہے۔ لہٰذا  یہاں ” شَهْرُ ” کا مطلب “اعلان” اور تشہیر ہے۔اس کے بعد آنے والا لفظ  ” رَمَضَانَ ”   صیغہ معروف  یعنی “ال” کے بغیر ہے  جس کا مطلب یہ ہے کہ رمضان کو  اللہ نے  کسی بھی لحاظ سے کوئی خاص اہمیت نہیں دی اور ناہی یہ  مہینہ کوئی ایسا متبرک بتا یا گیا جیسا ہم نے اسے اللہ کا مہینہ قرار دے رکھا ہے ۔ اگلا لفظ ” الَّذِيْ ” ہے جس کا ترجمہ عام طور پر ‘اسم موصوم’ کہہ کر  ‘جو، جس، کہ ‘ وغیرہ کیا جاتا ہے مگر عربی گرامر کے مطابق  ” الَّذِيْ ” کو اسم موصول صرف اْسی صورت میں لیا جاسکتا ہے جب اس کے ساتھ اسم ِ معروف  یعنی “ال” والا لفظ استعمال ہو ورنہ ” الَّذِيْ”  عربی کے بنیادی لفظ “لذۃ”    کا ماخوذ مان کر اس  کا ترجمہ اس کے بنیادی لفظ کے مطابق ‘لذت، لطف ، مزہ،  سرور اور خوشی سمجھا جائے گا۔ لہٰذا ، ” شَهْرُ رَمَضَانَ الَّذِيْ ” کے معانی یہ ہوں گے کہ ” رمضان میں خوشی /لذت/سرور اور لطف والا اعلان یہ ہے کہ

أُنزِلَ ”  یعنی   پہنچاؤ، آگے بڑہاؤ، ظاہر کرو۔ عربی زبان میں ” نزِلَ” ماضی کا فعل ہے اور ” أُنزِلَ” حکمیہ یعنی کسی کام کو کرنے کا فعل ہے  یعنی “نازل کرو” جس کے معانی یہی نہیں کہ آسمان سے نازل کرو  بلکہ  کسی شے کو دوسروں تک پہنچانا ،  کسی شے کو آگے بڑھانا    اور کسی شے کو دوسروں پر ظاہر کرنا بھی ” أُنزِلَ ”  کے معانی میں شامل ہے ۔” فِيهِ ” یعنی اس میں ۔” الْقُرْآنُ ” یہ ہے وہ خاص شے جو  صیغہ معروف “ال” کے ساتھ آئی ہے ۔ گویا درحقیقت ” شَهْرُ رَمَضَانَ الَّذِيْ أُنزِلَ فِيهِ الْقُرْآنُ ” کے الفاظ میں یہ بتایا جار ہا ہے کہ  “خوش آ ئند اعلان یہ ہے کہ رمضان میں قرآن لوگوں تک پہنچاؤ “

کتنے دکھ کی بات ہے کہ ہمارے  علماء نے رمضان کی جھوٹی فضیلت ثابت کرنے کے لئے قواعد سے ہٹ کر ان قرآنی ا لفاظ کا گمراہ کن ترجمہ ایسے کیا کہ  “رمضان کا مہینہ وہ ہے جس میں قرآن نازل ہوا”۔ اس کفر کو تولنے میں کسی بھی عالم نے “ہوا” اور “کرو ” کا فرق نہیں دیکھا   اور ایک کے پیچھے دوسری بھیڑ “کرو” کو “ہوا” کہتے ہوئے  چلتی رہی ۔ جیسے  زمانہ ماضی کا فعل ” کَتَبَ” کے معانی ہیں “لکھا  ”  اور “اَکتْب”  کے معانی ہیں “لکھو”  اسی  قاعدے سے عربی زبان کا  ہر ایک فعل بنتا ہے   جس میں حکمیہ فعل “الف” سے شروع ہوتا ہے ۔لہٰذا ، اگر ” نزِلَ” ہوتا تو مال لیا جاتا کہ  واقعی میں یہ کہا گیا ہے کہ رمضان میں قرآن نازل ہوا مگر   یہاں تو اللہ نے ” أُنزِلَ” کے حکمیہ فعل سے ہمیں حکم دیا ہے کہ تم رمضان میں قرآن کو  لوگوں تک پہنچاؤ اور انہیں  وہ  بتاؤ  جو   قرآن میں  لکھا ہے ۔ مگر کیا کہئے کہ جب ہمارے عقیدے میں ہی یہ کفر  شامل ہوکہ قرآن گرامر کے مطابق نہیں لکھا گیا !  گویا ہمارا ایمان برباد کرنے کے لئے ہمیں یہ سمجھادیا گیا کہ عر بی گرامر ایک طرف  جس میں ” أُنزِلَ” حکمیہ فعل ہو گا تو ہوتا رہے  مگر  قرنی تفسیر کے نام پر مشرکین  کے چیلوں نے جو کچھ گھڑ رکھا ہے  وہ ایک طرف ۔ قرآن کی جھوٹی تفسیر لکھنے والے  مفسر یہ جانتے تھے کہ  اول  تو گناہ سمجھ کر  کوئی یہ کہنے کی  جرات ہی نہیں کرے گا کہ قرآن رمضان میں نازل نہیں ہوا  اور اگر خدا نخواستہ کسی نے  گرامر کی یہ غلطی پکڑ لی جو ہم نے لوگوں کا ایمان خراب کرنے کے لئے جان بوجھ کر کی ہے تو ہم اسے یہ کہہ کر جھٹلادیں گے  کہ قرآن میں  تو کوئی گرامر  استعمال نہیں ہوئی ۔ مگر کم عقل یہ نہیں جانتے کہ اگر قرآن میں کوئی گرامر استعمال نہیں ہوئی تو  پھر قرآن کا بیان  صحیح کیسے رہ سکتا ہے ۔پھر تو  کوئی بھی  کچھ بھی ترجمہ کرتا پھرے گا ۔اور قرآن کے ساتھ  یہی ظلم ہوا  کہ جس نے جو چا ہا  وہی ترجمہ کرلیا ۔ اللہ کی تحریر کا معیار تو  اسی صورت میں قائم رہ سکتا ہے کہ اللہ کے الفاظ کا  اسی  زبان کے قواعد کے مطابق  ترجمہ کیا جائے  جس میں یہ نازل کیا گیا تھا ۔  ” هُدًى لِّلنَّاسِ ”  جو   لوگوں  کی  رہنمائی  کے لئے ہے ۔

ؒلہٰذا ” شَهْرُ رَمَضَانَ الَّذِيْ أُنزِلَ فِيهِ الْقُرْآنُ هُدًى لِّلنَّاسِ ”  اس آیت 2:185 کے یہاں تک کے الفاظ  اس   رہنما قانون کی  بات کررہے ہیں جو لوگوں کی ہدایت و رہنمائی کے لئے  قرآن میں  موجود ہے اور جسے رمضان میں لوگوں تک پہنچانے کی ہم پر ڈ یوٹی عائد کردی گئی ۔  رمضان کے ساتھ صیغہ معروف “ال” اس لئے بھی نہیں لگایا گیا کہ “الرمضان”  کا معروف اسم استعمال کرنے سے لوگوں تک قرآن کا پیغام پہنچانے کی ذمہ داری صرف ایک اسی   رمضان کے لئے  مخصوص ہوجاتی جس میں نبؐی کریم  اور آپؐ  کے جیل القدر  ساتھیوں  کی  یہ  ڈیوٹی لگائی گئی   تھی  کہ وہ لوگوں تک  اللہ کا پیغام  پہنچائیں ۔جبکہ اللہ کی منشا ء تو ہر رمضان میں لوگوں تک قرآن پہنچانے کی تھی ۔ یہ بات ان لوگوں کو بھی سمجھنی چاہئیے جو رمضان میں قرآن نازل ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں کہ قرآن کسی خاص رمضان کی بات نہیں کررہا جس میں نزول ِ قرآن جیسا  خاص واقع وقوع پژیر ہوا  ۔اگر ایسا ہوتا تو یہاں  صیغہ مخصوص کے ساتھ الرمضان کا لفظ آتا۔  لہٰذا ” هُدًى لِّلنَّاسِ” تک مرکزی اصول  ِ رہنمائی  بتانے کے بعد لوگوں کے لئے   اس ہدایت یعنی  ” هُدًى لِّلنَّاسِ  ” کی شقیں حرف ِ ربط “و” کے ساتھ  الگ الگ   جملوں کی صورت میں بتائی جارہی ہیں ۔

وَبَيِّنَاتٍ مِّنَ الْهُدَى” یعنی “اور رہنما    حقائق     مابین ہیں “

بَيِّنَاتٍ” دراصل  “ما بین” یعنی    BETWEEN  کے معانی میں بالکل اسی طرح ہے جیسے قانون ساز ادارے ریاستی قانون کی چھوٹی چھوٹی شقیں  بیان کرنے سے پہلے  BETWEEN  کا لفظ اس لئے لکھتے ہیں  کہ جو کچھ اس قانون کے درمیان ہے اب   وہ  بیان کیا جار ہا ہے۔

ہمارے علماء نے “بَيِّنَاتٍ” کا مطلب ” ہدایت کی نشانیاں ” اس لئے لیا کہ    وہ سب سے بڑی بات  جو اس آیت کی  ا گلی شق میں بتائی جارہی ہے    اسے چْھپا لیا جائے  اور قواعد کو بالائے طاق رکھتے ہوئے حرف ِ ربط  (و) سے پہلے آنے والی بات اور  اس کے بعد آنے والی بات کو اس طریقے سے  ملاکے قرآن کے مفہوم کو بگاڑا جائے کہ جس بات سے اللہ تعالیٰ سختی سے منع فرمارہے ہیں    اسی بات کو کرنے کا حکم بنا کر لوگوں کے سامنے پیش کیا جائے ۔  سمجھنے کی بات تو یہ ہے کہ جب ” هُدًى لِّلنَّاسِ” کے جملے میں ہدایت یا رہنمائی کے الفاظ آگئے تھے تو اس کے ساتھ ہی  ” وَبَيِّنَاتٍ مِّنَ الْهُدَى ” میں ہدایت کی نشانیاں  دوبارہ  کہنے کا کیا مطلب ہے ؟

وَالْفُرْقَانِ فَمَن شَهِدَ مِنكُمُ الشَّهْرَ فَلْيَصُمْهُ  ” یہ ہے  ہدایت کی اصل بات  جو حرف ِ ربط (و) سے  شروع کی جارہی ہے جو قرآن میں بیان کی ہوئی رہنمائی کی پہلی اور مکمل شق ہے۔ جس میں  ” وَالْفُرْقَانِ ” کا مطلب  ہے “اور ا لگ ہیں” ، “علیحدہ ہوگئے”، “کٹ گئے” ۔ ” فُرْقَانِ ” دراصل “عربی زبان کے بنیادی لفظ “فرق” سے ماخوذ ہے ۔یہ وہی فرق ہے جو حساب کتاب اور ریاضی  کے سوالات میں “تفریق” کے نام سے بھی  استعمال ہوتا ہے  اور جس میں 2 اور 4 کا فرق 2 کہلاتا ہے ۔ یعنی منفی (MINUS) ۔ ” فَمَن”  یقیناً جو کوئی بھی ۔”ف” اگر کسی لفظ کے شروع میں آجائے تو وہ بات  انتہائی لازمی ، انتہائی اہم اور انتہائی فیصلہ کن اور بالکل  درست  ہوتی ہے  اور ” مَن” یعنی جو کوئی (WHOEVER) ۔ ” مِنكُمُ”  یعنی تم سب میں سے ۔” مِن” سے اور ” كُمُ ” جن کو خطاب ہورہا ہے ان کی جمع کی ضمیر ہے ۔ ” الشَّهْرَ”  صیغہ معروف کے ساتھ  آنے کا مطلب  نہ تو مہینہ اور نا ہی شہرت بلکہ وہ مخصوص چاند   ہے جسے چاند خدا کہا جاتا تھا ۔ قرآن میں جہاں بھی چاند خدا کا ذکر کیا گیا وہاں  اسے ” الشَّهْرَ” یعنی لوگوں کا  مخصوص  کیا ہوا      اور ” الشَّهْرَ الحرام”   یعنی  ممنوع چاند  ہی قرار دیا گیا ۔

فَلْيَصُمْهُ ” عربی زبان کا ایک ایسا مرکب لفظ ہے جو اپنے آپ میں ایک جملہ ہے ۔ اس سے  پہلا “ف”  اس  کی حقیقت  بتا ر ہا ہے ۔ اس کے بعد  آنے والا “ل”  کے لئے یعنہ FOR کے معانی دیتا ہے ۔”يَصُمْ” زمانہ حال کا فعل ہے  اور   یہی صوم ہے جسے ہمارے علماء روزہ رکھنا کھتے ہیں  مگر قرآن میں  یہی    صوم اور اس کی جمع صیام    “کسی کے لئے ڈٹے رہنے اور کسی کی سنے بغیر  کسی کے لئے کھڑے ہونے اور ڈٹ جانے کے الفاظ میں استعمال ہوا ہے ۔ “فَلْيَصُمْهُ” کے آخر میں آنے والا “ہْ”  دراصل  کسی تیسری شے یا کسی تیسرے شخص کی ضمیر ِ واحد  ہے جسے ضمیر ِ غائب بھی کہا جاتا ہے ۔ یہ ضمیر سیدھی واپس ” الشَّهْرَ   ” پر جارہی ہے  یعنی  اس (الشَّهْر)کے   لئے روزے۔گویا    “فَلْيَصُمْهُ” چاند خدا  یعنی  ” الشَّهْر ”   کے لئے رکھے جانے والے صوم کی بات کرتا ہے۔

ٹھیک ہے ہم بھی اپنے علمائے کرام کے کہنے پر ” يَصُمْ ” کے معانی روزہ رکھنا ہی لے لیتے ہیں  جس سے اس مکمل شق  ” وَالْفُرْقَانِ فَمَن شَهِدَ مِنكُمُ الشَّهْرَ فَلْيَصُمْهُ “کے معانی یہ ہوں گے کہ ”  اور  تم میں سے  کٹ کر وہ لوگ  بالکل الگ ہوگئے  جو   چاند خدا کے لئے روزہ رکھتے ہیں “

اگر ہم  اس آیت کے لفظ ” الشَّهْرَ ” کو اپنے علمائے کرام کے کہنے پر رمضان کا مہینہ   بھی  لے لیں  تو    قرآن کی اس شق کے معانی اور بھی  واضح ہو  جاتے ہیں ۔ ا س صورت میں   قرآن کے    ان الفاظ ” وَالْفُرْقَانِ فَمَن شَهِدَ مِنكُمُ الشَّهْرَ فَلْيَصُمْهُ” کے معانی یہ ہوں گے کہ “تم میں سے وہ جو رمضان کے مہینے کا روزہ رکھتا ہے  وہ  تم سے بالکل کٹ گیا “۔

یہی اللہ کے کلام کا معجزہ ہے کہ شیطان خواہ کتنی بھی کوشش کرلے اللہ کا بیان   نہیں بدل   سکتا   بلکہ کھلی آنکھوں سے دیکھا جائے تو  اللہ کے بیان کے معانی  شیطانی کرنے والوں کے  خلاف  ہی جاتے ہیں  ۔

اب  وہ کون ہیں جنہیں “تم”   کہا گیا ہے ۔ یہ یقیناً وہ لوگ ہیں جنہیں  یہ پیغام دیا گیا یعنی اللہ کے نبی  محمؐد اور آپؐ کے   عظیم  الشان  ساتھی ۔

گویا قرآن کی یہ شق  ” وَالْفُرْقَانِ فَمَن شَهِدَ مِنكُمُ الشَّهْرَ فَلْيَصُمْهُ” صاف صاف بیان کررہی ہے کہ ‘جو کوئی بھی رمضان کے روزے رکھتا ہے وہ مسلمانوں میں سے بالکل نہیں  بلکہ مشرک ، کافر اور غیر مسلم ہے ‘۔

اس آیت کی باقی تفصیل آئندہ بیان کردی جائے گی  کیونکہ مضون طویل ہوجانے کی وجہ سے سمجھ سے باہر ہوجائے گا۔

اب یہ آپ کی  اپنی مرضی ہے کہ روزہ  رکہیں  یا  نہ  رکھیں ۔  اللہ کا حکم تو یہی ہے جو آپ کے سامنے کھول کر تفصیل سے بیان کردیا گیا ہے ۔

رمضان کی آمد آمد ہے   جس کے والہانہ استقبال کے لئے    زور شور سے  تیاریاں کی جارہی ہیں ۔جیو نیوز”  دل دل رمضان ” کے نعرے   لگا رہا ہے  اور  ٹیلی ویژن کے دیگر اردو  چینل بھی   “لبیک یا رمضان” کے نعروں سے گونج رہے ہیں  مگر ان اداروں  میں سے کسی کو بھی یہ توفیق نہیں ہوئی کہ  شرکیہ نعرے لگانے سے پہلے کم ازکم  رمضان کی حقیقت پر تحقیق ہی کرلیتے ۔

Advertisements